ذیابیطس کے متعلق غلط فہمیوں کا خاتمہ: عام غلط تصورات کی وضاحت
انگریزی ماخذ کی تاریخ: 2023-01-26 · اردو مواد کا انسانی جائزہ: 1 نومبر 2026، مالک کی تصدیق کے مطابق

ذیابیطس ایک دائمی بیماری ہے جو دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو متاثر کرتی ہے۔ اس حالت کے بارے میں معلومات کی وسیع دستیابی کے باوجود، اب بھی اس کے گرد بہت سے مغالطے اور غلط فہمیاں موجود ہیں۔ اس مضمون میں، ہم ذیابیطس کے بارے میں چند عام ترین غلط فہمیوں کا جائزہ لیں گے اور انہیں دور کرنے کے لیے درست معلومات فراہم کریں گے۔
مغالطہ 1: ذیابیطس صرف زیادہ وزن والے افراد کو متاثر کرتی ہے۔
یہ بات مکمل طور پر درست نہیں ہے۔ اگرچہ زیادہ وزن یا موٹاپا کسی شخص میں ٹائپ 2 ذیابیطس لاحق ہونے کا خطرہ بڑھا سکتا ہے، لیکن یہ حالت معمول کے وزن والے لوگوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صحت مند جسمانی وزن کے حامل افراد میں بھی ٹائپ 2 ذیابیطس پیدا ہو سکتی ہے۔ [1]
مغالطہ 2: بہت زیادہ چینی کھانے سے ذیابیطس ہو جاتی ہے۔
یہ بات مکمل طور پر درست نہیں ہے۔ اگرچہ زیادہ چینی والی خوراک ٹائپ 2 ذیابیطس لاحق ہونے میں کردار ادا کر سکتی ہے، لیکن یہ اس کی واحد وجہ نہیں ہے۔ دیگر عوامل جیسے کہ جینز (جینیات)، عمر، اور جسمانی بے عملی (ورزش نہ کرنا) بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ [2]
مغالطہ 3: ذیابیطس کے شکار افراد میٹھا نہیں کھا سکتے۔
یہ بات مکمل طور پر درست نہیں ہے۔ ذیابیطس کے شکار افراد اب بھی میٹھا کھا سکتے ہیں، لیکن انہیں اپنے کھانے کی مقدار (پورشن سائز) اور کاربوہائیڈریٹ کی کل مقدار کے بارے میں محتاط رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہیں اس بات کو بھی یقینی بنانا چاہیے کہ وہ اپنے کھانوں کو صحت بخش غذاؤں، جیسے پھلوں، سبزیوں اور سالم اناج کے ساتھ متوازن رکھ رہے ہیں۔ [3]
مغالطہ 4: ذیابیطس کوئی سنگین بیماری نہیں ہے۔
یہ بات بالکل درست نہیں ہے۔ ذیابیطس ایک سنگین بیماری ہے جس کا اگر علاج نہ کیا جائے تو یہ امراض قلب، فالج، گردے کی بیماری اور بینائی کے ضیاع جیسی سنگین پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ صحت بخش غذا کھا کر، باقاعدگی سے ورزش کر کے، اور اپنے معالج کی تجویز کردہ ادویات باقاعدگی سے لے کر اپنی بیماری کو سنبھالیں۔ [4]
مغالطہ 5: ایک بار ذیابیطس ہو جائے تو یہ زندگی بھر رہتی ہے۔
یہ بات مکمل طور پر درست نہیں ہے۔ اگرچہ ٹائپ 1 ذیابیطس ایک تاحیات رہنے والی کیفیت ہے، لیکن ٹائپ 2 ذیابیطس کو بعض اوقات طرز زندگی کی تبدیلیوں جیسے وزن میں کمی، صحت بخش خوراک اور باقاعدہ ورزش کے ذریعے ریورس (پلٹایا) کیا جا سکتا ہے۔ [5]
آخر میں، یہ ضروری ہے کہ ذیابیطس کے حقائق سے باخبر رہا جائے اور غلط فہمیوں اور توہمات پر یقین نہ کیا جائے۔ اس حالت کے بارے میں درست معلومات حاصل کر کے، ذیابیطس کے شکار افراد اپنی صحت کے بارے میں باخبر فیصلے کر سکتے ہیں اور اپنی بیماری کو مؤثر طریقے سے سنبھالنے کے لیے اقدامات کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کو کوئی شبہ ہو تو ہمیشہ کسی ہیلتھ کیئر پروفیشنل سے مشورہ کرنا ہی بہتر ہے۔
حوالہ جات اور مزید مطالعہ
- Mount Sinai. (n.d.). Diabetes myths and facts Information.
- Duke Health. (n.d.). 5 Common Myths About Type 2 Diabetes: Know the Facts.
- British Heart Foundation. (2019, March 25). 8 diabetes myths you shouldn’t believe.
- American Diabetes Association. (n.d.). Know Your Facts About Diabetes.
- Yale School of Medicine. (2025, February 12). Can Type 2 Diabetes Be Reversed?