GLP-1 ادویات اور بینائی کا نایاب عارضہ (NAION): ذیابیطس میں مبتلا افراد کو کیا جاننے کی ضرورت ہے
انگریزی ماخذ کی تاریخ: 2026-07-30 · اردو مواد کا انسانی جائزہ: 1 نومبر 2026، مالک کی تصدیق کے مطابق


GLP-1 ادویات ٹائپ 2 ذیابیطس اور موٹاپے کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہیں۔ آسٹریلیا کی جانب سے جاری کردہ ایک نئی حفاظتی اپ ڈیٹ میں معالجین اور مریضوں سے کہا گیا ہے کہ وہ آنکھوں کی ایک نایاب حالت پر توجہ دیں جسے نان آرٹرائٹک انٹیریئر اسکیمک آپٹک نیوروپیتھی، یا NAION کہا جاتا ہے۔
اہم پیغام متوازن ہے: یہ حالت نایاب ہے، دستیاب شواہد یہ ثابت نہیں کرتے کہ ہر GLP-1 دوا اس کا سبب بنتی ہے، اور لوگوں کو اپنی مرضی سے کوئی دوا بند نہیں کرنی چاہیے۔ لیکن اچانک یا جزوی طور پر بینائی کا ختم ہونا فوری طبی جانچ کا تقاضا کرتا ہے۔
NAION کیا ہے؟
NAION اس وقت ہوتا ہے جب بینائی کے عصب (آپٹک نرو) کے ایک حصے میں خون کا بہاؤ رک جاتا ہے۔ آپٹک نرو آنکھ سے بصری معلومات دماغ تک پہنچاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ہونے والا بینائی کا نقصان مستقل ہو سکتا ہے، اور علاج سے بصارت کی واضح بحالی کی تصدیق قابلِ اعتماد طریقے سے نہیں ہو سکی ہے۔
حفاظتی اپ ڈیٹ میں کیا کہا گیا؟
23 جولائی 2026 کو، آسٹریلیا کی تھیراپیوٹک گڈز ایڈمنسٹریشن (TGA) نے رپورٹ کیا کہ ایک نایاب لیکن سنگین بصری عارضے کے امکان کی وجہ سے تمام GLP-1 ریسیپٹر ایگونسٹ کلاس کی مصنوعات پر درج انتباہات کو اپ ڈیٹ کر دیا گیا ہے۔ اس اپ ڈیٹ میں شامل ادویات میں آسٹریلیا میں دستیاب dulaglutide، semaglutide، tirzepatide اور liraglutide کی مصنوعات شامل ہیں۔
TGA نے اپنے منفی اثرات کے ڈیٹا بیس میں آپٹک اسکیمک نیوروپیتھی کے 36 کیسز رپورٹ کیے: جن میں سے 23 کیسز semaglutide، تین liraglutide اور 10 کیسز tirzepatide سے متعلق تھے۔ اس تلاش میں dulaglutide سے متعلق کوئی کیس نہیں ملا، اگرچہ semaglutide کی ایک رپورٹ میں مریض کی جانب سے ماضی میں dulaglutide کا استعمال شامل تھا۔
یہ رپورٹس حفاظتی نگرانی کے لیے اہم ہیں، لیکن یہ بذاتِ خود یہ نہیں بتا سکتیں کہ یہ حالت کتنی کثرت سے پیش آتی ہے یا یہ ثابت نہیں کر سکتیں کہ دوا ہی اس کا سبب بنی ہے۔ TGA کا کہنا تھا کہ شواہد متضاد ہیں اور وبائی امراض کے بعض مطالعات نے semaglutide کے لیے ایک ممکنہ سگنل کی توثیق کی، لیکن dulaglutide یا tirzepatide کے لیے نہیں۔
کس کو زیادہ خطرہ لاحق ہو سکتا ہے؟
TGA نے واضح کیا کہ جن افراد کی آنکھ میں ایک ساختی کیفیت پائی جاتی ہے جسے بعض اوقات "ڈسک ایٹ رسک" (disc at risk) کہا جاتا ہے، وہ NAION کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں خواہ وہ GLP-1 دوا لے رہے ہوں یا نہیں۔ ایک آپٹومیٹرسٹ یا ماہر امراضِ چشم اس کیفیت کا جائزہ لے سکتا ہے۔ ذیابیطس اور عروقی نظام (خون کی نالیوں) کے دیگر خطرے والے عوامل بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
کن علامات پر فوری توجہ درکار ہے؟
- ایک آنکھ کی بینائی کا اچانک چلے جانا
- بینائی کے دائرے میں اچانک جزوی کمی یا کسی حصے کا نظر نہ آنا
- بینائی کی نئی علامات جو تیزی سے پیدا ہوں، خاص طور پر بیدار ہونے کے وقت
اگر ایسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طبی امداد حاصل کریں اور معالج کو آگاہ کریں کہ آپ کون سی ادویات استعمال کر رہے ہیں۔ آسٹریلین semaglutide پروڈکٹ کی معلوماتی دستاویز کے مطابق اگر NAION کی تصدیق ہو جائے تو علاج روک دینا چاہیے۔ یہ تشخیص کے بعد معالج کا فیصلہ ہوتا ہے، علامات نہ ہونے کی صورت میں مشورے کے بغیر دوا چھوڑنے کی کوئی وجہ نہیں۔
GLP-1 دوا استعمال کرنے والے افراد کو اب کیا کرنا چاہیے؟
- جب تک آپ کا اپنا معالج مختلف ہدایت نہ دے، تجویز کردہ دوا کا استعمال جاری رکھیں۔
- فوری انتباہی علامت سے باخبر رہیں: اچانک یا جزوی بینائی کا ختم ہونا۔
- آنکھوں اور ذیابیطس کے معمول کے معائنے جاری رکھیں، بالخصوص اگر آپ کو پہلے سے آنکھوں کی بیماری یا عروقی خطرات لاحق ہوں۔
- اپنی ذیابیطس یا آنکھوں کی نگہداشت کی ٹیم سے دریافت کریں کہ کیا آپ میں NAION کے کوئی انفرادی خطرے کے عوامل موجود ہیں۔
حتمی نکتہ
NAION آنکھوں کا ایک نایاب لیکن ممکنہ طور پر سنگین عارضہ ہے جو GLP-1 ادویات استعمال کرنے والے افراد میں رپورٹ ہوا ہے۔ حفاظتی اپ ڈیٹ سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ یہ ادویات عام طور پر اندھے پن کا سبب بنتی ہیں، اور نہ ہی اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ طبی مشورے کے بغیر مؤثر علاج بند کر دیں۔ بینائی کا اچانک یا جزوی نقصان ایک ہنگامی علامت ہے اور اس کا فوراً معائنہ کروانا چاہیے۔
ذرائع:
- Therapeutic Goods Administration: GLP-1 RAs and rare vision disorder
- JAMA Ophthalmology: Risk of NAION in patients prescribed semaglutide
- American Diabetes Association: Standards of Care in Diabetes – 2026, Pharmacologic Approaches to Glycemic Treatment
یہ مضمون عمومی معلومات کے لیے ہے اور کسی مستند ہیلتھ کیئر پروفیشنل کے مشورے کا متبادل نہیں ہے۔