پی ٹی ایس ڈی (PTSD - پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر)
انگریزی ماخذ کی تاریخ: 2026-06-20 · اردو مواد کا انسانی جائزہ: 1 نومبر 2026، مالک کی تصدیق کے مطابق

پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD) ایک دماغی و نفسیاتی عارضہ ہے جو کسی بھی خوفناک یا تکلیف دہ واقعے سے گزرنے یا اس کا چشم دید گواہ بننے کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ اس میں صدمے کے واقعے کا بار بار ذہن میں لوٹ آنا، صدمے کی یاد دلانے والی چیزوں سے بچنا، سوچ اور جذبات میں منفی تبدیلیاں، اور شدید بے چینی یا چوکنا پن (heightened arousal) شامل ہیں۔ PTSD کسی بھی تکلیف دہ واقعے کے بعد پیدا ہو سکتا ہے اور مخصوص نفسیاتی طریقہ علاج کے ذریعے اس کا علاج ممکن ہے۔
یہ کتنا عام ہے؟
پی ٹی ایس ڈی کسی شدید صدمے کے بعد لوگوں کو متاثر کر سکتا ہے، جن میں مار پیٹ یا تشدد، سنگین حادثات، ولادت کی پیچیدگیاں یا جنگ شامل ہیں۔ صدمے سے دوچار ہونے والے ہر شخص کو یہ عارضہ لاحق نہیں ہوتا؛ علامات اور ان کے ظاہر ہونے کا وقت مختلف ہو سکتا ہے۔
اس کی کیا وجوہات ہیں؟
پی ٹی ایس ڈی اس وقت ہوتا ہے جب خوف کا فطری ردعمل غیر متوازن ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے یادداشت کو محفوظ کرنے میں مسلسل خرابیاں اور امیگڈالا (amygdala) کا ضرورت سے زیادہ فعال ہونا پیدا ہوتا ہے۔
عام خطرے کے عوامل
- کوئی بھی ایسا واقعہ جس سے زندگی یا جسمانی سلامتی کو خطرہ محسوس ہوا ہو
- لڑائی، جنگ، اور فوجی نوعیت کا صدمہ
- جنسی یا جسمانی حملہ
- سڑک کے ٹریفک حادثات یا قدرتی آفات
- بچپن میں بدسلوکی یا لاپرواہی کا نشانہ بننا
- تکلیف دہ واقعات کا چشم دید گواہ بننا (بشمول ایمرجنسی وارڈز میں طبی عملہ)
- ماضی میں صدمات کا شکار رہنے کی تاریخ
- صدمے کے بعد سماجی و خاندانی مدد کی کمی
- حیاتیاتی حساسیت (ہپوکیمپس کا حجم، HPA محور کا ضرورت سے زیادہ ردعمل)
علامات
- صدمے کا دوبارہ احساس (Re-experiencing): ناگوار یادیں، فلیش بیکس، ڈراؤنے خواب — جو اصل واقعے کی طرح ہی واضح اور تکلیف دہ محسوس ہوتے ہیں
- صدمے سے جڑے خیالات، احساسات، لوگوں یا مقامات سے دانستہ بچاؤ
- سوچ اور موڈ میں منفی تبدیلیاں: جرم کا احساس، شرمندگی، مسلسل منفی جذبات، لاتعلقی کا احساس، مثبت جذبات محسوس کرنے کی صلاحیت کا ختم ہونا
- حد سے زیادہ چوکنا پن (Hyperarousal): نیند کی خرابی، غیر معمولی ہوشیاری یا خطرے کا وہم، بات بے بات چونک اٹھنا، غصے کے دورے، توجہ مرکوز کرنے میں مشکلات
- علامات کا 1 ماہ سے زیادہ عرصے تک برقرار رہنا اور روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کرنا
ڈاکٹر سے کب رجوع کیا جائے
اگر صدمے سے متعلق علامات شدید ذہنی اذیت کا باعث بن رہی ہوں یا روزمرہ کی زندگی میں خلل ڈال رہی ہوں تو طبی مدد حاصل کریں؛ علامات شدید ہونے کی صورت میں چار ہفتے انتظار نہ کریں۔ خودکشی کے خیالات آنے پر فوری دماغی صحت کا معائنہ کروائیں۔ اگر آپ اپنی حفاظت خود نہیں کر پا رہے ہیں تو فوراً ہنگامی طبی امداد طلب کریں۔
تشخیص
اسکریننگ کے لیے PCL-5 (PTSD چیک لسٹ) یا IES-R جیسے ٹولز کی مدد سے کلینیکل جائزہ۔ تشخیص کے لیے DSM-5 یا ICD-11 کے معیارات۔ اسے ایڈجسٹمنٹ ڈس آرڈر، ایکیوٹ اسٹریس ری ایکشن، ڈپریشن اور کمپلیکس پی ٹی ایس ڈی (complex PTSD) سے الگ شناخت کرنا ضروری ہے۔
علاج کے طریقے
ٹروما فوکسڈ سی بی ٹی (TF-CBT)
ٹروما فوکسڈ سی بی ٹی ایک تجویز کردہ مؤثر علاج ہے۔ ایک تربیت یافتہ تھراپسٹ صدمے کی یادوں اور ان سے جڑے خیالات و عقائد کو درست رُخ دینے میں مدد کرتا ہے، جو عام طور پر 8 سے 12 سیشنز پر مشتمل ہوتا ہے، اور ضرورت پڑنے پر مزید سیشنز کیے جاتے ہیں۔
ای ایم ڈی آر (Eye Movement Desensitisation and Reprocessing)
یہ طریقہ کار بھی TF-CBT کی طرح ہی مؤثر ہے۔ اس میں جب مریض صدمے کی یادوں پر غور کرتا ہے تو اس دوران آنکھوں کی دو طرفہ حرکات یا ٹیپنگ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اگرچہ اس کے طریقہ کار کی مکمل سائنسی وضاحت پر بحث جاری ہے، لیکن اس کی افادیت کے مضبوط شواہد موجود ہیں۔
ایس ایس آر آئیز اور ایس این آر آئیز (SSRIs and SNRIs)
اگر کوئی بالغ فرد دوا کو ترجیح دے تو باقاعدہ معائنے کے ساتھ SSRI (جیسے سرٹرالین؛ sertraline) یا وینلافاکسین (venlafaxine) پر غور کیا جا سکتا ہے۔ نفسیاتی تھراپی اب بھی ایک اہم ترین آپشن ہے؛ انتخاب فوائد، خطرات اور مریض کی ترجیح کے مطابق ہونا چاہیے۔
ڈراؤنے خوابوں کے لیے پرازوسن (Prazosin)
ایک الفا-1 بلاکر جو نیند کے دوران نوراڈرینرجک بے چینی کو کم کرتا ہے، خاص طور پر پی ٹی ایس ڈی کے ڈراؤنے خوابوں کو کم کرنے میں۔ اس کے شواہد ملے جلے ہیں لیکن اسے ایسے ڈراؤنے خوابوں کے عارضے میں استعمال کیا جاتا ہے جن پر دیگر علاج کارگر نہ ہوں۔
خود نگہداشت اور طرزِ زندگی
- سماجی روابط برقرار رکھیں اور طویل عرصے تک تنہائی سے گریز کریں
- الکحل کا استعمال محدود کریں (اکثر علامات کو دبانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے لیکن طویل مدت میں پی ٹی ایس ڈی کو مزید بگاڑ دیتی ہے)
- باقاعدہ ورزش حد سے زیادہ چوکنے پن (hyperarousal) اور ڈپریشن کو کم کرتی ہے
- نیند کا معمول (Sleep hygiene) اہم ہے لیکن محض نیند کی عادات کے بجائے پس پردہ موجود اعصابی بے چینی اور چوکنے پن کا علاج کریں
روک تھام
صدمے کے فوری بعد معمول کی نفسیاتی بریفنگ (psychologically focused debriefing) کروانا تجویز نہیں کیا جاتا۔ عملی مدد، تحفظ اور سماجی تعلق مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ ابتدائی جائزہ اور مناسب ٹروما فوکسڈ تھراپی مسلسل علامات کو کم کر سکتی ہے، لیکن مکمل روک تھام کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
ٹارگٹڈ اپ ڈیٹس کے ذرائع
اپ ڈیٹ شدہ 24 اکتوبر 2026: فوری نگہداشت سے متعلق رہنمائی، علاج، روک تھام، اور مرض کے پھیلاؤ میں مخصوص تصحیحات کی گئیں۔ یہ اپ ڈیٹ مذکورہ حصوں پر مشتمل ہے؛ باقی گائیڈ کا مکمل جائزہ زیر التوا ہے۔